آئن لائن کلاسز میں میرا ہال 5

آئن لائن کلاسز میں  میرا ہال

آئن لائن کلاسز میں  میرا ہال

2020 کے شروع میں ہی کرونا وائرس پھیل گیا جس کی وجہ سے ملک بھر میں لاک ڈاؤن  لگا دیا گیا لاک ڈاؤن کے کچھ ہی عرصہ بعد تمام یونیورسٹیز نے آئن لائن کلاسز کا آغاز شروع کردیا میرا یہ سمیسٹر آئن لائن   پڑھ کر ہی مکمل ہونا تھا۔یونیورسٹیز کی  طرف سے ہمیں اپنے اپنےسٹوڈنٹ پورٹل  دئیے گئے جس میں  ہماری کلاسز کا ٹائم ٹیبل ،نوٹس بورڈ ، آئن لائن کویز ، آئن لائن اسائمنٹ ، سبجیکٹس کے گریڈزوغیرہ کے آپشن  دئیے گئے تھے کچھ ہی دنوں میں ہمراہی آئن لائن کالسز شروع ہوگئی جس میں کافی زیادہ  طالبات  کو مشکل کا سامنہ کرنا پڑا کیونکہ بہت سے ایسے طالبات تھے جو کہ دیہات سے تعلق رکھتے تھے جن کے پاس اچھا انٹرنیٹ موجود نہ تھا جس کی وجہ سے وہ اپنی آئن لائن کلاس نہ لے پارہے تھے اور کچھ طالبات کے پورٹل کا مسئلہ بھی آرہا تھا ہمیں پہلے تو  یونیورسٹی والوں نے پورٹل پرویڈیو لیکچرز  بھیج  کر پڑھیا پھر اچانک سے کچھ دنوں بعدہمیں سارے لیکچرز زوم ایپ پر دینا شروع کردئی اب زوم ایپ پر لیکچرز لینے میں کافی زیادہ طالبات کو مشکل کاسامانا  کرنا پڑا جس کی وجہ سے ہمارے پہلےلیکچر میں بس چند ایک طالبات ہی تھے جو زوم ایپ پر اپنا لیکچر لے سکے تھے ۔پہلے کچھ لیکچرز میں تو کافی زیادہ طالبات کے مسئلے  ہی رہے پھر آہستہ آہستہ کافی طالبات نے اچھےسے لیکچرز لینا  شروع کئے ۔ آئن لائن لیکچرز سے بہت سے طالبات  بہت زیادہ تنگ تھے کیونکہ ہمارا بہت ہی اہم سمیسٹر چل رہا تھا جس میں ہمیں لیب  لینا بہت ضروری تھی  ہمیں لیکچرز کی زرا سی بھی سمجھ  نہیں آتی تھیں بہت سے لوگ بس کلا س کو جوائن کرکے  کلاس میں دلچسپی نہ لیتے تھے اور اپنی الگ ہی کاموں میں مصروف رہتے اور پھر آہستہ آہستہ تمام ٹیچرز نے ہمیں اسائمنٹس دینا شروع کردی جو کہ ہم نے ہمیشہ انٹرنیٹ کی مدد سے بناکر ہی جمع کروائی ۔آئن لائن کلاسزمیں ہمیں اور ٹیچرز کو بھی  کافی زیادہ مشکلات کا سامان کرنا پڑا کبھی انٹرنیٹ کا مسئلہ تو کبھی لائٹ نہ ہونے کی وجہ سے وائی فائی کا مسئلہ اور اکثر تو کافی طالبات کے ساتھ ایسا ہوتا تھا کہ ان کے گاؤں میں بجلی پورے پورے دن نہ ہونے کی وجہ سے ان کے موبائل اور لیپ ٹاپ  میں بیٹری نہ ہونے کی وجہ سے وہ لیکچرنہ لے پاتے تھے ۔ جس کی وجہ سے ان کو کچھ بھی سمجھ نہ آتی ۔ اکثر کافی طالبات کا مائیک کا بھی مسئلہ رہتا جس  کی وجہ سے وہ اپنے سوالات نہ پوچھ پاتے تھے ۔بہت سے طالبات نے  بہت زیادہ  لیکچرز نہ  لئے کیونکہ ان کے انٹرنیٹ کا مسئلہ بہت زیادہ رہتا تھا

آئن لائن اسائمنٹس اور کویزز

زوم ایپ پر ہمیں  اسائمنٹس دینا شروع کردی جو کہ ہمارے سر سے گزرتی تھی جس کی ہمیں بلکل بھی سمجھ نہ آتی تھی  ہم نے اپنی زیادہ تر اسائمنٹ انٹرنیٹ کی مدد سے بنائی اسائمنٹس کے ساتھ ساتھ  ہمارےآئن لائن کویزز بھی شروع ہوگئے  آئن لائن کویزز بھی ہمارے سر سے گزر گئےلیکن ہم نے انٹرنیٹ کی مدد سے ان کو بھی حل کرنے کی کوشش کی آئن لائن  پڑھ پڑھ کر ہم سب لوگ کافی اوقتا گئے  تھے ۔

آئن لائن مڈ ٹرم امتحانات

اس کے بعد ہمارےمڈ ٹرم کے امتحانات شروع ہوگئے لیکن ہماری تیاری  بلکل بھی نہ تھی ہمارے  امتحانات میں پیپر حل کرنےکے لئے 24 گھنٹے کا ٹائم دیا  گیا ہمارے پیپر  اسائمنٹ بیس  تھے جس میں ہمیں صبح 10:30  پرسٹوڈنٹ پورٹل پر  پیپر آپلوڈکردیا جاتا تھا جوہم ڈاونلوڈ کرکے 24 گھنٹے کے اندر اندر اسے حل کرکے واپس سب مٹ کروانا ہوتا تھاہمارے کل 6پیپر ہوئے جن میں میں  نے بامشکل  سے اپنے سارے پیپر ٹائم پر سب مٹ کروائے اس طرح بہت سے ایسے طالبات  تھے جو کہ 24 گھنٹے کے اندر اندر  اپنا پیپر سب مٹ نہ کرواسکے تھے پر یونیورسٹی کی جانب سےایک میل اڈریس  دیا گیا جس پر ان سب طالبات نے اپنا  پیپر جمع کروایا جنہوں نے اپنا پیپر 24 گھنٹے کےاندراندر جمع نہ کروایا تھا  یونی ورسٹی کے جانب سے  کافی واضح تھا کہ سب طالبات اپنا پیپر پورے ٹائم پر جمع کروائیں گے لیکن انٹرنیٹ کی وجہ سےبہت سے طالبات کا پیپر رہ جاتا  تھا جس کی وجہ سے بہت سے طالبات کو مشکلات سامنا کرنا پڑا۔ اس وجہ سے یونی ورسٹی کی مینیجمنٹ کو بہت زیادہ  مشتکلات کا سامانا کرنا پڑا اور ان کو کڑی محنت  کرنی پڑی  آخر کا ہمارے مڈ ٹرم  امتحانات ختم ہوئے اور اس کے فوراً بعد ہماری پھر سے آئن لائن کلاسز شروع ہوگئی اور پھر سے بہت سے طالبات کا وہی انٹرنیٹ کا مسئلہ برقرار رہا  کوئی بھی طالب علم آئن لائن کلاس لینے پر مطمعین نہ تھا لیکن سب لوگ  مجبوری کی وجہ سے کلاسز لی رہی تھی حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن میں مزید  سختی برتی گئی اور لاک ڈاؤن کو مزید بڑھایا گیا ۔

آئن لائن فائنل  امتحانات

اس کے بعد ہمارےفائنل کے امتحانات شروع ہوگئے ہمارے  امتحانات میں پیپر حل کرنےکے لئے 24 گھنٹے کا ٹائم دیا  گیا ہمارے  فائنل پیپر  بھی اسائمنٹ بیس  تھے جس میں ہمیں صبح 10:30  پرسٹوڈنٹ پورٹل پر  پیپر آپلوڈکردیا جاتا تھا جوہم ڈاونلوڈ کرکے 24 گھنٹے کے اندر اندر اسے حل کرکے واپس سب مٹ کروانا تھاہمارے کل 6پیپر ہوئے جن میں میں  نے بامشکل  سے اپنے سارے پیپر ٹائم پر سب مٹ کروائے اس طرح فائنل پیپروں میں بھی  بہت سے ایسے طالبات  تھے جو کہ 24 گھنٹے کے اندر اندر  اپنا پیپر سب مٹ نہ کرواسکے تھے پھر یونیورسٹی کی جانب سےایک میل اڈریس  دیا گیا جس پر ان سب طالبات نے اپنا  پیپر جمع کروایا جنہوں نے اپنا پیپر 24 گھنٹے کےاندراندر جمع نہ کروایا تھا  یونیورسٹی کے جانب سے  کافی واضح تھا کہ سب طالبات اپنا پیپر پورے ٹائم پر جمع کروائیں گے لیکن انٹرنیٹ کی وجہ سےبہت سے طالبات کا پیپر رہ جاتا  تھا جس کی وجہ سے بہت سے طالبات کو مشکلات سامنا کرنا پڑا۔آخر کار  ہمارا یہ سمیستر مکمل ہوا اب ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارا اگلا سمیسٹر یونیورسٹی میں  ہو۔

اس طرح کی مزید انفارمیشن کے لئے ہماری ویب سائیڈ ویزٹ کریں۔www.techzaini.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں